حدیث نمبر: 12930
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَيُصِيبُهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا قَالَ ”يُصِيبُهُمْ كُلُّهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12930
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن الفضل الابرش، ولعنعنة محمد بن اسحاق، ولجھالة عبد الرحمن بن موسي، أخرجه البخاري في التاريخ الاوسط : 1/143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26990»