حدیث نمبر: 12928
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ حَسَنٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعٌ فِي بَيْتِي إِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ قَالَ ”جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ ”إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ“ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیداء مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاق درج ذیل ہے: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَقُولُ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَؤُمُّونَ ہٰذَا الْبَیْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَیْدَاء َ، خُسِفَ بِہِمْ، مَصَادِرُہُمْ شَتّٰی، یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَمَصَادِرُہُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَہُمُ الطَّرِیقُ، مِنْہُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیلِ، وَالْمَجْبُورُ یَہْلِکُونَ مَہْلِکًا وَاحِدًا، وَیَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی۔)) … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند کے اندر ہی مسکرا پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ کا قصد کریں گے، ایک ایسے قریشی آدمی کی خاطر، جس نے حرم میں پناہ لی ہو گی، جب وہ بیداء مقام پر پہنچیں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن ان کے نکلنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے اور ان کے نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں (جبکہ ان کی ہلاکت گاہ ایک ہی ہو گی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل وہ ایک راستے پر اکٹھے ہوں گے، جبکہ ان میں سے کسی کا معاملہ تو واضح ہو گا، کوئی مسافر ہو گا اور کوئی مجبور ہو گا، اس لیے وہ سارے ایک مقام پر ہلاک تو ہو جائیں گے، لیکن وہ الگ الگ مقامات سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۸، وأخرجہ مسلم بنحوہ: ۲۸۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12928
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة لاضطراب حماد بن سلمة فيه، أخرجه ابو يعلي: 6937 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26757»