الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
بيعةُ الْمَهْدِي وَالْخَسْفُ بِأَعْدَائِهِ باب: امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحَجَرِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ جَيْشًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ أُخْرِجَ كَارِهًا قَالَ ”يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي جَعْفَرٍ فَقَالَ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِعبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔