الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
بيعةُ الْمَهْدِي وَالْخَسْفُ بِأَعْدَائِهِ باب: امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِيُّ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ يَمْكَثُ تِسْعَ سِنِينَ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”سَبْعَ“سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔
لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔