الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
ظُهُورُ الْمَهْدِى وَمُدَّۃُ مَكْثِهِ باب: امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا“ فَقَالَ رَجُلٌ مَا صِحَاحًا قَالَ ”بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ“ قَالَ ”وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غِنًى وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ فَيَقُولُ ائْتِ السَّدَّانَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَيَقُولُ لَهُ احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ فَيَقُولُ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسًا أَوَ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَرُدَّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَهُ إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔