حدیث نمبر: 12922
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا“ زَيْدٌ الشَّاكُّ أَحَدُ الرُّوَاةِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ ”سِنِينَ“ ثُمَّ قَالَ ”تُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا“ قَالَ ”يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ نبی کریم کے بعد دنیا میں مختلف حوادث رونما ہوں گے، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی پانچ یا سات یا نو کے لیے نکلے گا۔ زید راوی کو شک ہوا، میں نے کہا: اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انھوں کہا: سال، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان لوگوں پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا اور زمین اپنی کھیتیوں میں سے کچھ بھی اپنے اندر ذخیرہ نہیں رکھے گی اور مال و دولت کے ڈھیر لگے ہوں گے، ایک آدمی اس کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی!مجھے دو، مجھے دو، تو جتنا کچھ اسے اٹھانے کی طاقت ہو گی، اتنا کچھ وہ اس کے کپڑے میں ڈال دے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12922
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري، أخرجه الترمذي مختصرا: 2232، وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 4083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11180»