حدیث نمبر: 12917
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَلْقَى الشَّامُ بَوَانِيهِ بَثْنِيَةً وَعَسَلًا فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ قَالَ وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ قَالَ فَقَالَ وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانٍ كَذَا وَكَذَا فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيَتَفَكَّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ بِهِ مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ قَالَ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ارضِ شام نے گندم اور شہد سمیت اپنی برکتوں کو ہمارے سامنے پیش کیا تو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے ہند کی طرف روانگی کا حکم دیا، ان دنوں ہم ہند سے بصرہ مراد لیا کرتے تھے، میں اس چڑھائی کو ناپسند کر رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے اٹھ کر مجھ سے کہا: ابو سلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، اُدھر سے ایک آدمی نے کہا: ابھی فتنوں کا ظہور نہیں ہوا، کیونکہ ابن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں، فتنے ان کے بعد ہوں گے، (اور فتنوں کے دور میں) جب لوگ (یمن سے پرے واقع) بلیان کے مقام پرہوں گے، پھر آدمی ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر غور کر ے گاکہ آیا کوئی ایسی جگہ بھی ہے، جہاں اس جگہ جیسے فتنے نہ ہوں، تو اسے کوئی ایسی پر سکون جگہ نہ ملے گی، بس یہی وہ زمانہ ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے قتل ِ عام ہوگا، اور ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ایسا زمانہ ہمیں اور تمہیں پائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12917
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عزرة بن قيس البجلي، أخرجه الطبراني في الكبير : 3841، وفي الاوسط : 8474 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16944»