الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي ذَلِكَ باب: اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12911
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ شِرَارَ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین لوگ وہ ہیں، جن کو قیامت زندہ پا لے گی، (یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی، وہ بدترین لوگ ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے یکسر محروم ہوں گے۔