الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي ذَلِكَ باب: اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12909
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہیں ہوں گے۔ جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسے ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی اور پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔