الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12903
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ، اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہو گئی۔ امام طیبی نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جائے گا اور اس کی عبادت نہیںکی جائے گی، (اس وقت قیامت برپا ہو جائے گی)۔
مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔
مراد یہ ہے کہ توحید اور توحید کا اقرار کرنے والے ختم ہو جائیں گے اور روئے زمین پر صرف شرک اور شرّ ہو گا۔