الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟)) قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((أَلَيْسَ يُصَلِّي)) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ))عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے ان کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تھے، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، دراصل وہ ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت لے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باواز بلند فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس انصاری نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی شہادت نہیں ہے،“ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی نماز نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے لوگوں (کو قتل کرنے) سے منع کر دیا ہے۔“