الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَيُؤْمِنُ النَّاسُ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، فَيَفِرُّ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! يَا مُسْلِمُ! هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَاءِي، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو، اور اس علامت کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یا جنھوں نے اچھے عمل نہیں کیے ہوں گے، ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے قتال نہیں کر لو گے، یہودی بچنے کے لیے دوڑ کر پتھر کے پیچھے پناہ لے گا، لیکن وہ پتھر یوں بولے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کر لو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔