الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12897
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الْعُيُونِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُوَلَفَ الْأَنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ترکوں سے قتال نہیں کرو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے اور گویا ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چوڑے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔