الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12896
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کرو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ہے کہ ان کے لباس بھی بالوں کے ہوں گے، کیونکہ ان کے علاقے زیادہ برف باری ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ سرد ہیں، یہی لباس ان کے لیے زیادہ مفید ہے۔ ملا علی قاری نے کہا ہے کہ بالوں سے مراد دباغت کے بغیر وہ چمڑے ہیں، جن پر بال لگے ہوئے ہوں۔
ابو نعیم نے اپنی مستخرج میںکہا: ان سے مراد اکراد یا دیلم کے لوگ ہیں۔
ابو نعیم نے اپنی مستخرج میںکہا: ان سے مراد اکراد یا دیلم کے لوگ ہیں۔