الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12894
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گرہوں کے درمیان بڑی جنگ نہ ہو جائے اور دونوں کا دعوی بھی ایک ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو گروہوں سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ان دو گروہوں کے درمیان جنگ صفین ہوئی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے ان دو گروہوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔