الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ باب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12887
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَهِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ قَالَ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَقْتَرِبُ الزَّمَانُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ“ قَالُوا الْهَرْجُ أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ الْقَتْلُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمہارے اندر مال و دولت اس قدر عام ہوجائے گا کہ مال دار آدمی اس وجہ سے پریشان ہوجائے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور علم چھین لیا جائے گا، وقت مختصر ہوجائے گا، فتنے برپا ہوں گے اور ھَرْج عام ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا: قتل ہے، قتل۔
وضاحت:
فوائد: … مال و دولت تو اب بھی بہت زیادہ ہے، لیکن ابھی تک صدقہ قبول کرنے والے فقراء و مساکین کی تعداد بھی خاصی ہے۔