حدیث نمبر: 12883
وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”احْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةِ قَالَ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوا“ قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کو شمار کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سوکے درمیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تم پر آزمائشیں آ پڑیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہمیں اس طرح آزمایا گیا کہ آدمی کو نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنا پڑی۔

وضاحت:
فوائد: … بنو امیہ کے زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: یہ صحیح ثابت ہے کہ حجاج بن یوسف اور اس کا امیر ولید وغیرہ نماز کو اس کے پورے وقت سے لیٹ کر دیتے تھے، اس بارے میں آثار مشہور ہیں، مصنف عبد الرزاق میں ہے: امام عطاء رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایک دن ولید نے نمازِ جمعہ اتنی لیٹ کر دی کہ شام ہو گئی، پس میں آیا اور بیٹھنے سے پہلے نمازِ ظہر پڑھ لی اور پھر بیٹھ کر اشارے سے نمازِ عصر پڑھی، جبکہ وہ ابھی تک جمعہ کا خطبہ دیے جا رہا تھا۔ امام عطاء نے قتل کے ڈر سے ایسے کیا تھا، ایک روایت امام بخاری کے شیخ ابو نعیم نے اپنی کتاب الصلاۃ میں بیان کی ہے، ابو بکر بن عتبہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی، اُدھر حجاج نے نماز پڑھنے میں شام کر دی، پس سیدنا ابو جحیفہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنی نماز پڑھ لی، انھوں نے یہ اثر بھی نقل کیا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حجاج کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، لیکن جب اس نے نماز کو مؤخر کرنا شروع کیا تو وہ اس کے ساتھ پڑھنے کے لیے آتے ہی نہیں تھے، نیز محمد بن ابی اسماعیل نے کہا: میں مِنٰی میں تھا اور ولید پر صحیفے پڑھے جا رہے تھے، پس ان لوگوں نے نماز کو لیٹ کر دیا، میں نے سعید بن جبیر اور عطاء کو دیکھا کہ وہ بیٹھ کر اشاروں سے نماز ادا کر رہے تھے۔(فتح الباری: ۲/ ۱۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12883
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3060، ومسلم: 149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23648»