حدیث نمبر: 12882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا كَمَا قَالَهُ قَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَيُكْسَرُ أَوْ يُفْتَحُ قُلْتُ بَلْ يُكْسَرُ قَالَ إِذًا لَا يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِحُذَيْفَةَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَا حَدَّثْتَهُ بِهِ قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً إِنِّي حَدَّثْتُهُ لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا تم میں سے کسی کو فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث یا دہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے فتنہ کے متعلق حدیث یاد ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتنہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے میں تم جرأت والے ہو۔ میں نے کہا: انسان اپنے اہل و عیال، مال و اولاد اور ہمسایوں کے بارے میں جتنے فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے جیسی نیکیاں ایسے فتنوں کا کفارہ بنتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسے فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میرا سوال تو اس فتنے کے بارے میں ہے جو سمندر کی موج کی طرح آئے گا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: بلکہ اسے توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: پھر تو وہ کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے سیدنا حذیفہ سے دریافت کیا کہ آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ علم تھا کہ دروازہ سے مراد کون آدمی ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، وہ اس دروازے کو اس طرح جانتے تھے، جیسے وہ یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ وکیع نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا: مسروق نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جو کچھ بیان کیا، آیا وہ اس کی حقیقت اور مفہوم کو جانتے تھے؟ جبکہ ہم نے کہا: آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ دروازہ کون ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس بات کو اس طرح جانتے تھے جیسے ان کو یہ علم تھا کہ کل سے پہلے رات آئے گی، یاد رکھو کہ میں نے یہ حقائق بیان کیے ہیں، یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلے تو ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے کہ دروازہ سے مراد کون ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا کہ وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھے، سو جب اس نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ اس دروازہ سے مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی ہے، جس ہستی کے راستے پر شیطان نہ ٹھہر سکتا ہے، اس کے زمانے کی خیر و بھلائی اور امن و امان کا کیا کہنا۔ اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کے خلفائے عظام بھی برحق تھے، لیکن جو امتیازات عہد ِ فاروقی کے تھے، وہ بعد والے کسی زمانے کا مقدر نہ بن سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 525، 1435، 3586، ومسلم: ص 2218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23804»