الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارَوَاهُ حذيفة بن اليمان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفِتَنِ الا حَادِيثُ الْمُصَدَّرَهُ بِقَوْلِهِ ﷺ: «لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۔۔۔ » باب: فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایات
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ فَقَالُوا نَحْنُ سَمِعْنَاهُ قَالَ لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ قَالَ قُلْتُ أَنَا قَالَ لِي أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِيرِ فَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْبُ عَلَى قَلْبَيْنِ أَبْيَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مِرْبَدٌّ كَالْكُوزِ مُجَخًّا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ وَحَدَّثْتُهُ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ كَسْرًا قَالَ عُمَرُ كَسْرًا لَا أَبًا لَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ كَانَ لَعَلَّهُ أَنْ يُعَادَ فَيُغْلَقَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ كَسْرًا قَالَ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِربعی بن حراش کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے تو انہوں نے کہا: کل جب ہم ان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنوں کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی احادیث سنی ہیں۔ انہوں نے کہا: شاید تم میرے سوال سے یہ سمجھ رہے ہو کہ میں انسان کے اہل وعیال اور مال کے فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم تو یہی سمجھے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، ایسے فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقہ جیسی نیکیاں ختم کر دیتی ہیں،یہ بتلاؤ کہ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان فتنوں کے متعلق سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے؟ ان کا یہ سوال سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا: میں بیان کروں؟ انھوں نے کہا:اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، تم ہی بیان کر دو، میں نے کہا کہ چٹائی کے پھیلاؤ کی طرح فتنے رونما ہوں گے، جو دل ان فتنوں سے محفوظ رہا اس میں سفید نقطہ لگادیا جائے گا اور جو دل اس فتنے میں ملوث ہوگیا اس میں سیاہ نقطہ لگادیا جائے گا، یہاں تک کہ نقطے لگتے لگتے دل دو قسم کے ہوجائیں گے، کچھ دل تو پتھر کی طرح بالکل سفید ہو جائیں گے، جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے ان کو کوئی فتنہ بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور کچھ سیاہ ہو کر کوزے کی مانند اس طرح الٹ جائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بات کو واضح کیا، وہ کسی اچھائی کو اچھائی اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے اورصرف اپنی خواہشات میں مگن ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بھی بیان کیا کہ آپ کو ان فتنوں سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کے اور ان کے مابین ایک بند دروازہ ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اسے زور سے توڑ دیا جائے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا باپ نہ رہے، کیا اسے توڑ ڈالا جائے گا؟ میں نے کہا جی ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اسے سیدھی طرح کھول دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت بند بھی ہوجائے۔ میں نے کہا: اسے کھولا نہیں جائے گا، بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ نیز میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ اس دروازے سے مراد ایک انسان ہے جو قتل کیا جائے گا یا وہ اپنی طبعی موت مرے گا، یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے، محض کہانیاں نہیں۔
اگر رونما ہونے والے فتنوں،اس میں شرکت کرنے والوں اور غیر جانبدار رہنے والوں پر غور کیا جائے تو مذکورہ بالا حدیث مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔