الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَارَوَاهُ حذيفة بن اليمان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفِتَنِ الا حَادِيثُ الْمُصَدَّرَهُ بِقَوْلِهِ ﷺ: «لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۔۔۔ » باب: فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایات
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ابْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي شَرٍّ فَذَهَبَ اللَّهُ بِذَلِكَ الشَّرِّ وَجَاءَ بِالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ فَهَلْ بَعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ مَا هُوَ قَالَ ”فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا تَأْتِيكُمْ مُشْتَبِهَةً كَوُجُوهِ الْبَقَرِ لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ“سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کفر کے شرّ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شرّ کو ختم کر دیا اور آپ کے ہاتھوں پر خیر(اور دینِ اسلام) کو لے آیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فتنے ہوں گے، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے اور وہ گائیوں کے چہروں کی طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے اورتم ان میں امتیاز نہیں کر سکو گے۔