الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
مَنْعُ أَهْلِ الذَّمَّةِ أَدَاءَ الْجِزْيَةِ باب: ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا؟ فَقِيلَ لَهُ: وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَعَمَّ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَيَشُدُّ اللَّهُ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوں نے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
غور کرو، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا غلبہ اور رعب کیوں تھا؟ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اسلام میں عزت و عظمت کو تلاش کیا اور ہم نے اسلام سے بیگانگی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کی علامت سمجھا۔