حدیث نمبر: 12874
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا؟ فَقِيلَ لَهُ: وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَعَمَّ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَيَشُدُّ اللَّهُ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوں نے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وجہ سے مسلمانوں میں تو بے برکتی، نحوست، خباثت اور نجاست آتی ہے، لیکن اس معصیت کا بظاہر سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مرعوب ہو جاتا ہے اور کافرغالب، اس وقت کوئی اسلامی مملکت اپنے امورِ سلطنت میں آزاد نہیں ہے، بلکہ کوئی سے دو اسلامی ملک اپنی مرضی سے آپس میں آزادانہ تجارت نہیں کر سکتے، ایک دوسرے کو اسلحہ منتقل نہیں کر سکتے، بلکہ اغیار کے اشاروں کے مطابق باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر لیتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ ایک مسلمان حکمران مسلم مملکت پر حملہ کرنے کے لیے دنیائے کفر کو اپنے ملک کی سرزمین اور اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہوتا ہے۔ ذہن نشین کرلیں کہ یہ کافروں کا رعب نہیں ہے، یہ اپنوں کی بزدلی ہے، یہ عہدوں کی حرص ہے، یہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے، بقولِ علامہ اقبال: وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
غور کرو، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا غلبہ اور رعب کیوں تھا؟ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اسلام میں عزت و عظمت کو تلاش کیا اور ہم نے اسلام سے بیگانگی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی کی علامت سمجھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12874
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابويعلي: 6631، وعلقه البخاري: 3180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8368»