الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12873
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ“ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ”ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔