الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12868
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ يَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ“ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … کون سمجھے ان حقائق کو؟ آج کل فیصلہ کرنے والے لوگ کون ہیں؟ لوگوں کی قیادت کرنے والے افراد کیسے ہیں؟ خاندانوں کے سربراہوں کی مذہبی کیفیت کیسی ہے؟ سیاست میں گشت کرنے والوں کے حالات کیسے ہیں؟ صرف تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے اعلی تعلیم یافتہ مدرسین کی یہ کیفیت ہے کہ وہ شرعی آداب اور حدود کے پابند نہیں ہوتے، بے پردہ عورتوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، اپنے سہولت آمیز اور گندے مزاج کے مطابق اسلام کو لچک دار بناتے ہیں، بلکہ اسلامیات کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب بے پردگی کی اور خواتین و حضرات کی آپس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی گنجائش نکالنا پڑے گی۔