الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ يَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ“ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔