حدیث نمبر: 12864
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يَا رَبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔

وضاحت:
فوائد: … خواب میں وحی یا فرشتے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستقبل میں نازل ہونے والی رحمتوں اور عذابوں کے بارے میں بتلایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں عبادت سے غافل نہ ہوں اور اس شرف پر اکتفا نہ کریںکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس جملے کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں: ۱۔ نسب، مال یا کسی اعزاز کی وجہ سے دنیا میں باعزت، باوقار اور بارعب ہونے کے اسباب موجود ہیں، لیکن آخرت میں یہ سب چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی اور اعمال صالحہ کا ذخیرہ ہو گا نہیں۔
۲۔ غِنٰی کی وجہ سے دنیا میں تو ملبوسات مہیا کر لیے ہیں، لیکن اعمال صالحہ نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں ننگی ہوں گی۔
۳۔ لباس تو پہنا ہوا ہے، لیکن وہ اس قدر باریک ہے کہ پردہ نہیں ہو رہا، اس جرم کی آخرت میں سزا ہو گی۔
سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12864
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1126، 5844 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27080»