حدیث نمبر: 12862
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ ”لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ إِمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ فَقَالَ ”نَعَمْ الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجْلَبَةِ عَلَى النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12862
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو عطاء السكسكي روي عنه اثنان ولم يوثقه غير ابن حبان، ومعاذ بن سعد السكسكي مجھول، أخرجه الطبراني في الشاميين : 2555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23151»