الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ“سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔