الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12859
عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَوْ فِي شِرَارِ الْخَلْقِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔