حدیث نمبر: 12856
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ تَتَدَاعَى عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا“، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ”أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ، يُنْتَزَعُ الْمَهَابَةُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيُجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ“، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22760»