الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فِتَنْ عَامَّةٌ وَأُمُورٌ هَامَّةٌ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا بَعْدَ حُصُولِها باب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ تَتَدَاعَى عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا“، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ”أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ، يُنْتَزَعُ الْمَهَابَةُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيُجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ“، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔