الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ باب: قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِي مَجْلِسِهِ حَدِيثًا جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ فَكَرِهَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ قَالَ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَوْ قَالَ مَا إِضَاعَتُهَا قَالَ ”إِذَا تَوَسَّدَ الْأَمْرُ غَيْرَ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اتنے میں ایک بدّو نے آکر پوچھا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات توسن لی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات ہی نہیں سنی، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات پوری کر لی تو پوچھا: قیامت کے متعلق دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امانتوں کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! امانتوں کو ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیئے جائیں گے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔