حدیث نمبر: 12850
وَعَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي وَإِنَّهُ لَنَازِلٌ عَلَيَّ فِي بَيْتِي بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا فَقَامَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ“ ثُمَّ قَالَ ”لَيُفْتَحَنَّ لَكُمُ الشَّامُ وَالرُّومُ وَفَارِسُ أَوِ الرُّومُ وَفَارِسُ حَتَّى يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْإِبِلِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ الْبَقَرِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ الْغَنَمِ حَتَّى يُعْطَى أَحَدُهُمْ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطُهَا“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ هَامَتِي فَقَالَ ”يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَايَا وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ إِلَى النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن زغب ایادی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس میرے گھر میں آئے ہوئے تھے، انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے گردو نواح میں پیدل روانہ کیا، تاکہ ہم مال ِ غنیمت لے کر آئیں، لیکن ہوا یوں کہ ہم مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکے، جب ہم لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے چہروں پر تھکاوٹ محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کرنا،میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے کمزور ہوں، اور نہ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر، کیونکہ یہ عاجز آجائیں گے، اور نہ ہی ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے کر، کیونکہ لوگ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور شام ، روم اور فارس (ایران) فتح ہو جائے گا، (اور اتنا مالِ غنیمت جمع ہو گا کہ) تم میں سے ہر آدمی کو کئی اونٹ ، کئی گائیں اور دوسری غنیمتیں ملیں گی، بلکہ جب کسی کو سو دینار دیا جائے گا تو وہ اسے کم سمجھ ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا: ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (یعنی بیت المقدس) میں قائم ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زلزلے، مصائب اور بڑی بڑی علاماتِ قیامت قریب آگئیں ہیں اور اس وقت قیامت لوگوں سے اس سے بھی زیادہ قریب ہوگی، جیسے میرا ہاتھ اور تمہارا سر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مستقبل کے امورِ غیبیہ کی خبریں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں کہ فتح بیت المقدس کے بعد دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں اور علامتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہوں گی، مثلا: زلزلے، سیلاب، نئی نئی بیماریاں، قتل و غارت گری کی درندہ صفت مثالیں، امت ِ مسلمہ کا ایک دوسرے کا خون بہانا، فتح و شکست کے سلسلے، تہذیبوں میں تبدیلی، نئی ایجادات اور بڑے بڑے حادثات۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12850
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، فقد تفرد به معاوية بن صالح بھذه السياقة، أخرجه ابوداود: 2535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22854»