حدیث نمبر: 12849
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلِ السَّكُونِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ وَبِمَاذَا قَالَ ”بِمُسْخَنَةٍ“ قَالُوا فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَمَا فُعِلَ بِهِ قَالَ ”رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا مَتَى وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانٌ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، اچانک ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر کہا: اس کے ساتھ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ ایسا برتن تھا،جس میں کھانا گرم رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا اس کھانے سے کچھ بچ بھی گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر پوچھا: اس کا کیا بنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اوپر اٹھا لیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی جانے لگی کہ مجھے موت آنے والی ہے اور میں تم میں اب ٹھہرنے والا نہیں ہوں، اور تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی رہو گے، بلکہ تم اس قدر قلیل مدت رہو گے کہ ایک دوسرے سے پوچھو گے کہ کیا ہم اتنی جلدی چلے جائیں او ر تم گروہوں کی شکل میں آؤ گے اور ایک دوسرے کو فنا کرو گے اور قیامت سے پہلے اموات بکثرت ہوں گی او ر اس کے بعد زلزلوں والے سال شروع ہو جائیں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن حبان: 6777، والدارمي: 1/ 29، وابويعلي: 6861، والطبراني في الكبير : 6356 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17089»