حدیث نمبر: 12846
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةُ بْنِ أُسَيْدِ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَا تَذْكُرُونَ“ قَالُوا السَّاعَةَ قَالَ ”إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَةُ وَطَلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ“ فَقَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ”تَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ نَزَلُوا أَوْ تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا“ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ”نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ“ وَقَالَ الْآخَرُ ”رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو سریحہ سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں تشریف فرما تھے اور ہم نیچے باتیں کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور پوچھا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو؟ لوگو ں نے کہا: قیامت کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک تم یہ دس علامات نہیں دیکھ لیتے، اس وقت تک قیامت قائم نہیں گی: (۱)مشرق میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا۔ (۲)مغرب میں دھنسنا۔ (۳)جزیرۂ عرب میں دھنسنا۔ (۴)دھواں۔ (۵) دجال۔ (۶)زمین کا چوپایہ۔ (۷)مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب۔ (۸)یاجوج ماجوج کا ظہور۔ (۹) عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کو دھکیل کر لے جائے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے فرات سے یہ بھی سنا کہ لوگ جہاں اتریں گے، وہ آگ بھی وہیں ٹھہر جائے گی اور وہ جہاں قیلولہ کریں گے، وہ قیلولہ کرے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث فرات کے علاوہ ایک دوسرے آدمی نے بھی بیان کی، اس نے ابو طفیل سے روایت کی اور ابو طفیل نے سیدنا ابو سریحہ سے لی، لیکن اس نے اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً بیان نہیں کیا، ان دو مشائخ میں سے ایک نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا اور سمندر میں پھینک دینے والی ہوا کابطورِ علامتِ قیامت ذکر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ آگ اس اعتبار سے قیامت کی پہلی علامت ہے کہ اس کے بعد دنیوی امور کا وجود ختم ہو جائے گا اور اس لحاظ سے آخری نشانی ہے کہ قیامت کی جتنی نشانیاں بیان کی گئیں ہیں، ان میں سب سے آخری یہ آگ ہو گی، اس کے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔ اس آگ کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۳۰۵۴) والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2901 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16242»