حدیث نمبر: 12845
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَبَادَرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالَ وَالدُّخَّانَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَخُوَيْصَةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان چھ علامتوں کے ظہور سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نیک عمل کر لو، (۱)مغرب سے طلوع ِ آفتاب، (۲)دجال، (۳)دھواں، (۴)زمین کا چوپایہ، (۵) نفسا نفسی کا عالم اور (۶)عام لوگوں کا معاملہ۔

وضاحت:
فوائد: … ((خویصۃ احدکم)) کے تین معانی ہے: موت، ہر شخص سے متعلقہ مخصوص لڑائی، ہر شخص کے جان ومال سے متعلقہ مصروفیات۔ جب بندہ ان تین امور میں سے کسی ایک میں پھنس جاتا ہے تو وہ اعمالِ صالحہ کی روٹین برقرار نہیں رکھ سکتا، بالخصوص موت۔ دجال، مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب اور چوپایہ، ان تین علامتوں کے ظہور کے بعدنہ تو ایمان قبول کرنا مفید ثابت ہو گا اور نہ فاسق و فاجر کو اس کی توبہ فائدہ دے گی۔
دھویں کے تعین کے بارے میں دواقوال ہیں: ۱۔ قیامت کے قریب آنے کی علامت ہے، ابھی تک ظہور پذیر نہیں ہوئی، اس کی ہیئت و حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ نشانی ظاہر ہو چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ کے معاندانہ رویے سے تنگ آ کر ان کے لیے قحط سالی کی بددعا کی، نتیجتاً ان پر قحط کا عذاب نازل کر دیا گیا، حتی کہ وہ ہڈیاں، کھالیں اور مردار وغیرہ کھاتے تھے، جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انھیں دھواں سا نظر آتا تھا۔
زمین کا یہ چوپایہ قربِ قیامت کی علامت ہے، یہ لوگوںسے کلام کرے گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2947 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8427»