الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ باب: قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
حدیث نمبر: 12843
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ فَإِنْ يَقْطَعِ السِّلْكَ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … جب علامات ِ قیامت کا ظہور شروع ہو گا تو وہ یکے بعد دیگرے جلدی جلدی رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن برائیوں کو قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے، وہ بھی مختلف علاقوں میں ایک ایک کر کے جلد ہی منظرِ عام پر آ گئیں، جیسے سود، زنا، شراب، قطع رحمی اور جھوٹی گواہی کا عام ہونا، سچی شہادت کو چھپانا اور مخصوص لوگوں کو سلام کہنا۔