الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ باب: قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ قَالَ ”يَا حُذَيْفَةُ اقْرَأْ كِتَابَ اللَّهِ وَاعْمَلْ بِمَا فِيهِ“ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ خَيْرًا اتَّبَعْتُهُ وَإِنْ كَانَ شَرًّا اجْتَنَبْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ”نَعَمْ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ عَمَّاءُ صَمَّاءُ وَدُعَاةُ ضَلَالَةٍ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجْلَبَهُمْ قَذَفُوهُ فِيهَا“۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔