الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ باب: قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ مَوْتِي وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا كُلُّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا“سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات ، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میں موت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔