حدیث نمبر: 12839
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ مَوْتِي وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا كُلُّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات ، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میں موت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں چھ علامات قیامت بیان کی گئی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے، بیت المقدس کی فتح مکمل ہو گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ خلافت فاروقی میں طاعون کی وجہ سے تین دنوں میں ستر ہزار لوگوں کا مر جانا اسی حدیث کا مصداق ہے۔ حدیث میں وہ فتنہ مراد ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سبب بنا اور پھر اس کے فتنوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے۔ پانچویں علامت سے مراد مال و دولت کی کثرت ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں عظیم فتوحات کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے، اس کے بعد سے مال و دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔ چھٹی علامت یعنی رومیوںکا غداری کرنا، جس میں وہ سات لاکھ اور ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ آئیں گے، ابھی تک واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12839
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 20/ 244، وابن ابي شيبة: 15/ 104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22342»