الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
ظهُورُ ثَلاثِينَ كَذَابًا قَبْلَ قِيَامِ السَّاعَةِ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ انَّهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْهُمْ مُسَيْلَمَةُ الْكَذَابُ باب: روافض کا بیان
حدیث نمبر: 12831
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ كَثِيرٍ النَّوَاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت تک تمام امت متحد و متفق تھی، پھر آہستہ آہستہ انتشار آنا شروع ہوا، اس انتشار پھیلانے والوں سے ایک یہودی عالم عبد اللہ بن سباء بھی تھا، اس نے ابتداء میں یہ کہنا شروع کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، مگر حجاز، شام اور عراق والوں نے بالکل اس کی بات کو نہ مانا، اس کے بعد وہ شخص مصر چلا گیا، وہاں اس نے یہ باتیں کہنا شروع کیں اور ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کرنا شروع کردیا اور اس نے یہی بات لوگوں کے ذہن میں ڈالی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق تھے، مگر ان کو یہ حق نہیں دیا گیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف مختلف شکایات شروع کردیں، یہاں تک کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوگئی اور پھر اسی انتشار میں جنگ جمل اور جنگ صفیں ہوئی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا گیا۔ یہودی عبد اللہ بن سبا کی شروع کردہ تحریک میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں مبالغہ اور دوسری طرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض اور ساتھ ساتھ یہ نظریہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد خلافت کی مستحق ہے، نیز یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت کا سلسلہ ہے تاکہ امت کی رہنمائی ہوتی رہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ تمام نظریات زور پکڑتے گئے۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔