الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12821
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث کو سمجھنے اور اپنے آپ کو ان کا مصداق بنانے یا نہ بنانے کے لیے بہت زیادہ فہم و فراست اور حکمت و دانائی کی ضرورت ہے۔