الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12820
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ أَفْضَلَ النَّاسِ فِيهِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔