حدیث نمبر: 12819
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ، الْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ“، أَوْ قَالَ: ”عَلَى الشَّوْكِ“، قَالَ حَسَنٌ: فِي حَدِيثِهِ: خَبَطِ الشَّوْكَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَأتِيْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔)) … لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بند کرنے والے کے مترادف ہو گا۔ (ترمذی: ۲/ ۴۲، صحیحہ:۹۵۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12819
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: اَلْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِيْنِهٖ كَالْقَابِضِ فحسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9061»