الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا يُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍ أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا“، قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ، فِرَاشَ نَارٍ، وَذَبَّانَ طَمَعٍ، يَغْدُونَ بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُونَ بِدِرْهَمَيْنِ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِسیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔