الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَاكْسِرُوا قِسِيَّكُمْ، وَاقْطَعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ بَيْتَهُ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ“سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا ، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے ،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔