الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12816
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔