الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12815
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔