الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12814
وَعَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ، مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ هَا بُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربعی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔