الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ وَقَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”تَعَفَّفْ“، قَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْعَبْدِ، يَعْنِي الْقَبْرَ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”اصْبِرْ“، قَالَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ! أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، يَعْنِي حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟“، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ وَاغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ“، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أُتْرَكْ؟ قَالَ: ”فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُمْ فَكُنْ فِيهِمْ“، قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِي؟ قَالَ: ”إِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ حَتَّى يَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ“سیدناابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر ! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میں موت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میں نے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میں ڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا :کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔