الفتح الربانی
بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها— قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان
وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12810
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ ذِي الْأَصَابِعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ، أَيْنَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَيْكَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَنْشَأَ لَكَ ذُرِّيَّةٌ يَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَيَرُوحُونَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ذو اصابع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔