حدیث نمبر: 12808
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ يُقَالُ لَهُ زَائِدَةُ أَوْ مَزِيدَةُ بْنُ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا، وَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ دَوْحَةٍ، فَرَآنِي وَأَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَةٍ لِي وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمَا فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمَا لَنْ يُكْتَبَا إِلَّا فِي خَيْرٍ، فَقَالَ: ”أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟“، فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَا ابْنَ حَوَالَةَ! كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟“، قَالَ: قُلْتُ: أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَيْكَ بِالشَّامِ“، ثُمَّ قَالَ: ”كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا نَفْجَةُ أَرْنَبٍ؟“، قَالَ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ، وَلَأَنْ أَكُونَ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والا) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل قریب آگیا اور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میں جان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا : تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا ، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12808
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1249 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20623»