حدیث نمبر: 12807
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي“، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي؟ قَالَ: ”كُنْ كَابْنِ آدَمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12807
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1609»